الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ ثُمَّ نَسْخِهِ باب: رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1681
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ، يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ماتھے کو دوران سجدہ اس طرح رکھا جائے کہ وہ زمین پر اچھی طرح ٹک جائے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا کہ جب نماز میں اعتدال اور سکون ہو گا اور ناک کو بھی زمین پر رکھ دیا جائے گا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شروع میں مسنون عمل یہ تھا کہ دورانِ رکوع ہاتھوں کو تشبیک دے کر ان کو گھٹنوںکے درمیان رکھا جائے اور دو مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیا حکم اور عمل یہ پیش کیا کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے کہ ان سے ان کو پکڑرکھا ہو اور ایک مقتدی امام کے دائیں جانب اور دو اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ اب امت ِ مسلمہ میں دوسرے طریقے کے مطابق ہی عمل ہو رہا ہے۔