حدیث نمبر: 168
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (بِلَفْظِ) إِنَّ الْإِسْلَامَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَقِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ((النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: ”نامانوس کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔“

وضاحت:
فوائد: … ایسے مختصر افراد کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنے قبیلوں میں رہ کر اسلامی احکام کی مراد پوری کر سکیں، لہٰذا وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر بار کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 2629، وابن ماجه: 3988 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3784»