الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ ثُمَّ نَسْخِهِ باب: رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَٰذَا وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِعلقمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب اس بات کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے،پھر ہمیں اس چیز کا حکم دے دیا گیا تھا، پھر انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے گھٹنے پکڑے۔