الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ ثُمَّ نَسْخِهِ باب: رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَتَأَخَّرَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَيْدِيهِمَا فَأَقَامَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَكَعَا فَوَضَعَا أَيْدِيهِمَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَضَرَبَ أَيْدِيهِمَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَبَّكَ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُابن اسودبیان کرتے ہیں: علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ایک نمازکا وقت ہو گیا، علقمہ اور اسود پیچھے (ہوکر اور صف بنا کر کھڑے) ہوگئے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر ان دونوں نے رکوع کیا اور (سنت کے مطابق) اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق اور تشبیک ڈال کر انہیں اپنی رانوں کے درمیان کرلیا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔