حدیث نمبر: 1677
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَتَأَخَّرَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَيْدِيهِمَا فَأَقَامَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَكَعَا فَوَضَعَا أَيْدِيهِمَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَضَرَبَ أَيْدِيهِمَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَبَّكَ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن اسودبیان کرتے ہیں: علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ایک نمازکا وقت ہو گیا، علقمہ اور اسود پیچھے (ہوکر اور صف بنا کر کھڑے) ہوگئے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر ان دونوں نے رکوع کیا اور (سنت کے مطابق) اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق اور تشبیک ڈال کر انہیں اپنی رانوں کے درمیان کرلیا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب دو مقتدی ہوں تو وہ امام کی دائیں بائیں کھڑے ہوں گے، اس سے زیادہ تعداد امام کے پیچھے کھڑی ہو گی اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر گھٹنوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں گے، اسی طریقے کو تطبیق کہتے ہیں۔ لیکنیہ دونوں امور منسوخ ہو چکے ہیں۔ بعد والے احکام کے مطابق ایک مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو گا، دو ہونے کی صورت میں پیچھے کھڑے ہوں گے اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا۔ وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1677
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 534 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3927»