الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ باب: تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1676
عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابوداود نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو اللہ اکبر نہیں کہتے تھے اور اسی طرح جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ امام بیہقی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی ہو، لیکن اس حدیث کے راوی نے نہ سنی ہو، اور اس امر کا امکان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواز کے لیے تکبیر نہ کہی ہو۔ (انظر: ۱۵۳۵۲) بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے اور کئی احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تکبیرات الانتقال منقول ہیں۔