الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ باب: تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1667
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاروں رکعتوں کی قراءت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو بچوں کے آگے ، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے ، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکعات کی طوالت کی مقدار مذکورہ بالا کمیت سے مختلف بھی رہی ہے، مثلا ظہر کی پہلی دو رکعتیں تیس تیس آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتیں پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتی تھیں، اسی طرح نماز عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتیں اس سے بھی نصف کے برابر ہوتی تھیں، جہری نمازوں میں بھییہ فرق نظر آتا تھا۔