الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْحُجَّةِ فِي الصَّلَاةِ بِقِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَيٍّ مِمَّنْ أَثْنَى عَلَى قِرَاءَتِهِ باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان¤جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي يَعْلَى ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، قَالَ يَعْلَى: وَنَسِيتُ الرَّابِعَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس سے میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: چار آدمیوں سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو:ام عبد کے بیٹے، معاذ اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اِن کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے شخص کا نام بھول گیا۔