الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ باب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ)) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ((الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْحَازَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَحُوزُ السَّيْلُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا))سیدنا عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ کسی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔“