الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ حُكْمِ مَا يَطْرَأُ عَلَى الْإِمَامِ فِي الْقِرَاءَةِ وَحُكْمِ الْفَتْحِ عَلَيْهِ باب: امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
حدیث نمبر: 1657
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي الْفَجْرِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ مُوسَى وَهَارُونَ أَصَابَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نمازِ فجرمیں سورۂ مومنون کی تلاوت شروع کی، جب موسی اور ہارونm کے تذکرے تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آ گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رکوع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ مومنون کی (۴۴) آیتوں کے بعد ان دو انبیاء کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی لاحق ہونے والی مجبوری کی وجہ سے امام مزید قیام کا ارادہ ترک کر کے رکوع کر سکتا ہے اور ایسے ہی کرنا چاہیے۔