حدیث نمبر: 1655
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی جاتی تو اس کی تسبیح بیان کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … سوال کرنے، پناہ مانگنے اور تسبیح بیان کرنے کے لیے کوئی الفاظ بھی کہے جا سکتے ہیں تنزیہ اور تسبیح ہم معنی الفاظ ہیں، ان کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک قرار دینا، جیسے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} پڑھ کر سُبْحَانَ اللّٰہ کہنا۔ اس حدیث سے سبق حاصل کر کے ان لوگوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے، جن کو قرآن مجید کے مفہوم کا ذرا برابر علم نہیں ہوتا اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ امام اور منفرد کو تو ان موضوعات سے متعلقہ آیات کی تلاوت کر کے ان کا جواب دینا چاہیے، مقتدی کے بارے میں اختلاف ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ مقتدی خاموش رہے، کیونکہ مقتدی کو امام کی اقتدا میں جہری قراء ت کے دوران خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہ کسی مخصوص دلیل کی روشنی میں ہی بول سکتا ہے، مثلا: سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرنا، آمین کہنا، امام کو لقمہ دینا۔ البتہ سرّی نماز میں جب مقتدی خود قراء ت کر رہا ہو تو وہ ایسی آیتوں کی تلاوت کی صورت میں ان کے تقاضے کے مطابق جوابی کلمات کہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1655
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 772 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23650»