حدیث نمبر: 1653
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَٰذَا وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کی آواز سنتی تھی، جبکہ میں اپنے اس چھپر کی چھت پر ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس ہوتے۔

وضاحت:
فوائد: … اس اور حدیث نمبر (۵۹۷) سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے قیام میں بآواز بلند تلاوت کرنا بھی درست ہے، اس طریقے سے نمازی کا نماز کی طرف متوجہ ہوناآسان ہو جاتا ہے، جب کسی نمازی کے پاس کوئی آدمی بھی نماز پڑھ رہا ہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق آواز کو پست ہی رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1653
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 178، ابن ماجه: 1349، والترمذي في الشمائل : 311 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26895، 26905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27433»