حدیث نمبر: 1650
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت کرتے ہوئے اپنی آواز کو کافی لمبا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت مین یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، یَمُدُّ {بِسْمِ اللّٰہِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحْمٰنِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحِیْمِ}۔ یعنی: پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کی اور {بِسْمِ اللّٰہِ}، {اَلرَّحْمٰنِ} اور {اَلرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ} میں ل کو، {الرَّحْمٰنِ} میں م کو اور {الرَّحِیْمِ} میں ح کو لمبا کر کے پڑھا، اس انداز کو قاری حضرات مد طبعی کہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} … (اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی تلاوت کیا کرو۔ (سورۂ مزمل: ۴) اس وقت اکثر لوگ، وہ خواص ہوں یا عوام، ائمہ ہوں یا مقتدی، تلاوت ِ قرآن کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے، تلاوت کا اہتمام کرنے والوں کی نظر معیار پر نہیں ہوتی، مقدار کی کثرت پر ہوتی ہے، ہر ایک کییہ خواہش ہوتی ہے کہ نماز تراویح میں ایک دفعہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل ہونی چاہیے، قطع نظر اس سے قاری کیسے پڑھ رہا ہے، کوئی لفظ بھی سمجھ آ رہا ہے یا صرف آواز پر اکتفا کیا جا رہا ہے، بلکہ بعض مساجد میں تیز پڑھنے والی قاری کی تعریف کی جاتی ہے اور آہستہ پڑھنے والے کو سنت کی مخالفت کرنے کی ترغیب دلا کر اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ وہ بھی تیز پڑھے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نمازیوں کا آدھا گھنٹہ قیام میں گزر جائے اور ان کی گپ شپ کا وقت ضائع ہو جائے، (اللہ کی پناہ)۔ اس وقت ایک بڑی مصیبتیہ بھی ہے کہ نمازیوں کی قلت یا کثرت کو مساجد کی انتظامیہ کی ذلت یا عزت کا مسئلہ سمجھ لیا گیا ہے، اس عزت کے حصول کے لیے انتظامیہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسا قاری تلاش کیا جائے، جس کی آواز میں خوبصورتی بھی ہو اور تیزی بھی، قطع نظر اس سے کہ وہ خود کیسا ہو، تاکہ نمازی حضرات کھنچے چلے آئیں، اس مقصد کے لیے کھلانے پلانے اور اے سی وغیرہ کی سہولت کی لالچ بھی دی جاتی ہے۔ یہاںیہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اچھی آواز میں تلاوت کرنا ہماری شریعت کی موافقت ہے، لیکن آیت کے معنی و مفہوم اور قاری کے نیک و بد ہونے سے صرف ِ نظر کر کے حسنِ صوت کا ہی ہو کر رہ جانااسی شریعت کی مخالفت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5045 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12222»