حدیث نمبر: 165
عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِيمَانُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال اس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ۔ أخرجه ابويعلي: 756، والبزار: 1119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1604»