حدیث نمبر: 1648
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نمازوں میں سورۂ سجدہ کی تلاوت کی۔

وضاحت:
فوائد: … گزشتہ حدیث، اس حدیث سے کفایت کرتی ہے۔
خلاصۂ کلام: پانچوں نمازوں کی قراء ت کے بارے میں مختلف روایات گزری ہیں، اگر کسی نماز میں طویل قراء ت کو اختیار کیا گیا تو دوسری طرف اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ترغیب بھی دلائی گئی، اس سلسلے میں آپ درج ذیل بحث کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ بعض امور میں تکرار نظر آئے گا، لیکن مسئلہ سمجھانے کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے تخفیف کرتے تھے، لیکن اکیلی نماز میں بہت زیادہ طوالت اختیار کرتے تھے، لیکن آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ عوام کو یہ سوچنا چاہئے کہ تخفیف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نماز میں جتنا اختصار چاہیں، اتنا ہی کر دیا جائے، دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلکی نماز پڑھاتے تھے، تو اس کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دینے والے صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ساتھ سورۂ شمس، سورۂ اعلی، سورۂ لیل اور سورۂ علق کی تلاوت کرنے کی تعلیم بھی دی،یہ سورتیں بالترتیب (۱۵)، (۱۹)، (۲۱)، اور (۱۹) آیات پر مشتمل ہیں۔ نماز میں تلاوت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول عمل یہ ہے: نماز فجر میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ ق اور اس جیسی سورتیں پڑھنا، ساٹھ سے سو آیات اور کبھی سورۂ تکویر کی تلاوت کرنا اور جمعہ کے دن پہلی رکعت میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر کی تلاوت کرنا۔ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس تیس اور آخری دو رکعتوں میں تقریبا پندرہ پندرہ آیات کی تلاوت کرنا اور نماز عصر کی تلاوت اس سے نصف کرنا، اسی طرح ظہر و عصر میں سورۂ لیل، سورۂ اعلی، سورۂ بروج اور سورۂ طارق جیسی سورتوں کی تلاوت کرنا۔ نماز مغرب میں دو رکوع پر مشتمل سورۂ طور کی اور کبھی دو رکوع پر مشتمل سورۂ مرسلات کی اور کبھی اعراف جیسی لمبی سورت کی تلاوت کرنا۔ نمازِ عشاء میں سورۂ تِین کی تلاوت کرنا اور سورۂ شمس اور سورۂ لیل جیسی سورتوں کی تلاوت کرنے کی تعلیم دینا۔ یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں کے چند نمونے، لیکن صحابہ کرام نے ان نمازوں کو خفیف کہا۔ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر خفیف کا لفظ عوام الناس کے فہم
کے مطابق علی الاطلاق استعمال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے بہرحال امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں کی رو رعایت کرے اور مقتدی لوگوں کو اگر علم ہو جائے کہ جس نماز کو وہ طویل سمجھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی نماز پڑھنے پڑھانے کی تعلیم دی ہے تو پھر انھیں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سب سے پہلے مقتدی حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کمیّت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں، اگر ان کا امام اس حد سے تجاوز کرے تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کو صبر کے ساتھ خاموش رہنا چاہیے۔ ہاں اگر مقتدیوں میں معروف مریض لوگ ہوں تو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر مقتدی لوگ اپنے اصرار پر برقرار رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث نہ سمجھ پا رہے ہوں تو امام صاحب کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانائی سے کام لے، نماز کے دوران اختصار کرے اور درجہ بدرجہ مقتدیوں کی تربیت کرے اور ان کو اعلی قول و کردار کا مالک بنا کر احادیث ِ رسول کا شائق بنانے کی کوشش کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5957»