الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَصُبْحِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1643
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بھی اسی طرح رہی، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، انھوں نے نماز فجر میں قیام لمبا کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفۂ اول کی نمازیں مختصر ہوتی تھیں، جیسا کہ اس باب کی دیگر احادیث اور آخر میں دیئے گئے خلاصۂ کلام سے پتہ چلے گا۔ بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں قراء ت کی مقدار کو مزید بڑھا دیا تھا۔