الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَصُبْحِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1642
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا مِنْ وَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سورۂ ق کو یاد نہیں کیا، مگر اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس مضمون کے ساتھ سیدہ ام ہشام رضی اللہ عنہا کییہ حدیث ضعیف ہے، اس کے مقابلے میں ثقات کی محفوظ اور مقبول روایتیہ ہے: سیدہ ام ہشام کہتی ہیں: میں نے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} سن کر یاد کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲۸، مسلم: ۸۷۲) یہ علیحدہ بات ہے کہ صحیح مسلم (۴۵۷) میں سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجر میں سورۂ ق کی تلاوت کرنا ثابت ہے، یہ روایت ابھی ابھی گزری ہے۔