حدیث نمبر: 1637
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِي حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو مجلز کہتے ہیں: سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 512، والنسائي: 3/ 243، وللوتر بركعة شواھد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19998»