الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ باب: مغرب میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1632
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُورَةٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغُ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ يَزِيدُ: لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَأُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔