الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ باب: مغرب میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1631
عَنْ حَنْظَلَةَ السُّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ: إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ، اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میں مغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، پہلے اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔