الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ باب: مغرب میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَيجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِطُولَي الطُّولَيَيْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِعُرْوَةَ) مَا طُولَا الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ الْأَعْرَافُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔