حدیث نمبر: 1625
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ بِهِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُوْلَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو العالیہ کہتے ہیں: تیس صحابہ جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں) میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے، اس کو تو ہم جانتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں میں) جہری قراءت نہیں کرتے تھے، اب ان کو جہر والی نمازوں پر قیاس تو نہیں کرتے۔ پھر وہ اس امر پر متفق ہو گئے اور ان میں کوئی دو بھی اختلاف کرنے والے نہیں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ظہر و عصر کی تلاوت کی مقدار کے بارے میں مذکورہ بالا اور دیگر مختلف روایات مروی ہیں، کسی سے طویل مقدار کا ثبوت ملتا ہے اور کسی سے مختصر مقدار کا۔ امام نووی نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: علمائے کرام کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کے حالات کو دیکھ کر اطالت یا اختصار اختیار کرتے تھے، اگر مقتدی لمبی نماز کو پسند کر رہے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور ان کی کوئی مصروفیت بھی نہ ہوتی تو قیام کو لمبا کر دیا جاتا تھا، بصورت ِ دیگر اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا، کبھی کبھار ایسے بھی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تو یہ ہوتا کہ طویل قیام کیا جائے، لیکن کسی عذر کے جنم لینے کی وجہ سے مختصر قیام کو ترجیح دی جاتی تھی، مثلا بچے کے رونے کی آواز سننا، …۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیمار، کمزور اورحاجت مند لوگوں کی وجہ سے تخفیف کو ہی ترجیح دی جائے، اگر یہ وجوہات معدوم ہوں تو طوالت کو اختیار کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذان اسنادا ضعيفان۔ أخرجه ابن ماجه: 828 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23485»