حدیث نمبر: 1622
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَٰؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قزعہ کہتے ہیں: میں سیدنا أبو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کے پاس بہت لوگ آئے ہوئے تھے، جب وہ ان سے علیحدہ ہو ئے تو میں نے کہا: جس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کر رہے تھے، میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا: اس میں تو تیرے لیے کوئی خیر نہیں ہے۔لیکن جب میں نے اپنی بات کو دوہرایا تو انھوں نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کر دی جاتی، ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد کی طرف آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہوتے۔

وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں مذہب سے دوری، اس میں عدم دلچسپی اور عجلت پسندی نے لوگوں کو اس قسم کی احادیث ِ مبارکہ سے بہت دور کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1622
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ وھو حديث طويل، أخرجه بعضه مسلم: 1120، وابوداود 2406، لكن ليس فيھما قصة صلاة الظھر ھذه۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11327»