حدیث نمبر: 1618
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا؟ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَكِنَّا نَقْرَأُ) وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَٰذَا الْحَرْفَ {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا أَوْ عُسِيًّا}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ساری سنتیں یاد کی ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ بہرحال ہم تو قراءت کرتے ہیں، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے تھے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّایا عُسِیًّا۔}

وضاحت:
فوائد: … ان امور کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ذاتی علم پر محمول کیا جائے گا، ان کو علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان امور کا کوئی وجود نہیں تھا۔ جبکہ دوسرے صحابہ کرام نے وضاحت کر رکھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کے قیام میں تلاوت کرتے تھے۔
فوائد: … اگرچہ ہم یہ آیت عِتِیًّا کے الفاظ کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، لیکن اُبی اور مجاہد کی قراء ت عُسِیًّا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1618
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 809 واقتصر علي القسم الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2246»