الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1617
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ: أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض نمازوں میں قراءت کرتے اور بعض میں خاموش رہتے، اس لیے ہم ان نمازوں میں قراءت کرتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اور ان میں خاموش رہتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ کسی نے ان سے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دل میں پڑھتے ہوں، لیکن وہ غصہ میں آگئے اور کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاوت کرنے کا حکم دیا، آپ نے تلاوت کی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہاں آپ خاموش رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور تیرا ربّ بھولنے والا نہیں ہے۔ (سورۂ مریم: ۶۴) مزید ارشاد ہوا: البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ (احزاب: ۲۱) حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ متردد تھے، ان سے مروی روایات میں سے بعض میں سرے سے نفی کی گئی ہے، بعض میں ثابت کیا گیا ہے اور بعض میں انھوں نے شک کا اظہار کیا ہے۔ بہرحال کئی صحابہ کرام سے ظہر و عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلاوت کرنا ثابت ہے۔ مثلا: سیدنا ابو قتادہ، سیدنا خباب، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا جابر بن سمرہ، سیدنا براء بن عازب اور سیدنا انس۔ اس لیے ان مثبت روایات کو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی منفییا شک والی روایت پر ہر صورت میں مقدم کیا جائے گا۔ مزید تطبیق والی بحث میں پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معاملہ واضح ہے۔