حدیث نمبر: 1616
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لَا، فَقَالُوا: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ؟ قَالَ: خَمْشًا، هَٰذِهِ شَرٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں: میں اور کچھ قریشی نوجوان سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگے: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دل میں پڑھتے ہوں۔انہوں نے کہا:تمہارا چہرہ چھل جائے، یہ تو اس سے بھی بری بات ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مامور بندے تھے، جو چیز دے کر بھیجے گئے وہ آپ نے پہنچا دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لوگوں میں سے کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا، ماسوائے اِن تین چیزوں کے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اچھی طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور (خچر پیدا کرنے کے لیے) گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے آخری حصے کا یہ مطلب ہوا کہ تین امور میں اہل بیت کو خاص کیا گیا، جبکہ دوسری روایات میں پہلی اور آخری چیز کا حکم تو دوسرے امتیوں کو بھی دیا گیا ہے۔ علامہ عظیم آبادی نے کہا: یہ دو امور بھی اہل بیت کے حق میں واجب ہیں،یا اس کا معنییہ ہے کہ ان دو چیزوں کا ذکر بطورِ مبالغہ اور تاکید کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سرے سے تخصیص کی نفی کی جا رہی ہے، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اِلَّا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1616
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 808، والترمذي: 1701، والنسائي: 6/ 224 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1977، 2238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2238»