حدیث نمبر: 1609
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ بِهَا {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَٰذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ بِهَا؟ قَالَ: ((إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِيهَا، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے رہے، (وہ آیت یہ ہے:) {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ} جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے اور اسی کے ساتھ رکوع و سجود کرتے رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے سفارش کرنے کا سوال کیا ، جو اس نے مجھے عطا کر دیا اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی ہر حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، آخری حدیث میں دی گئی رخصت حیران کن ہے کہ ہر رکعت میں ایک آیت کو بار بار پڑھا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ ایک سورت کی بار بار تلاوت کرنے کی گنجائش بھی مل رہی ہے، جن لوگوں کو صرف قرآن مجید کی آخری مختصر سورتیںیاد ہوں، وہ اس حدیث کی روشنی میں ایک ہی سوررت یا آیت کی بار بار تلاوت کر کے لمبی قیام کییا ایک رکعت میں زیادہ آیات کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1609
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1350، والنسائي: 2/ 177 بلفظ متقارب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21654»