الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ ، وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُورَةٍ وَجَوَازِ تَكَرُّرِ السُّورَةِ أَوِ الْآيَاتِ فِي رَكْعَةٍ باب: ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے¤اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1608
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ فِي الصَّلَاةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹے تو تین بڑی بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں پائے ؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آیتیں جن کو وہ نماز میں تلاوت کر لے، اس کے لیے ان (تین اونٹنیوں) سے بہتر ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بغیر کسی عذر کے نماز میں طوالت سے جی کترانے والوں یا لمبے قیام کو پسند نہ کرنے والوں کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ وہ کس قدر محرومی کا شکار ہیں، جبکہ ایک ایک آیت کا اتنا بڑا اجر ہے۔