حدیث نمبر: 1605
عَنْ نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذَا مِثْلَ هَذِهِ الشِّعْرِ أَوْ نَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ عِشْرِينَ سُورَةً، الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كُلَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَذَكَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ فِي رَكْعَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور اس کے احکام و مسائل کو بھی ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا گیا، اس لیے قاری کو بھی چاہیے کہ اس کلام کو ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر تلاوت کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 4996، ومسلم: 822 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3607، 3958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3958»