الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ ، وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُورَةٍ وَجَوَازِ تَكَرُّرِ السُّورَةِ أَوِ الْآيَاتِ فِي رَكْعَةٍ باب: ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے¤اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1603
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي رَكْعَةٍ؟ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوں کو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔
وضاحت:
فوائد: … مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔