الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ قِرَاءَةِ السُّورَةِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ وَهَلْ تُسَنُّ قِرَاءَتُهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ أَمْ لَا باب: پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں¤اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1602
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِسَعْدٍ: شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُمُدُّ مِنَ الْأُوْلَيَيْنِ وَأَحْذِفُ مِنَ الْأُخْرَيَيْنِ وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنَنْتُ بِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: لوگوں نے ہر چیز کے متعلق تیری شکایت کی ہے،حتی کہ نماز کے متعلق بھی، (حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتاہوں اور دوسری دو کو مختصر اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا، یہ سن کر انھوں نے کہا: تیرے بارے میں میرایہی گمان تھا۔
وضاحت:
فوائد: … عوام الناس میں بڑی قوت کے ساتھ یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ فرض نمازکی پہلی اوردوسری رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد مزید تلاوت کرنا ضروری ہے اورتیسری اورچوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفاکرنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ عمل تودرست ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے،حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد رکوع کیا جا سکتاہے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد مزید تلاوت بھی کی جا سکتی ہے۔