الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ قِرَاءَةِ السُّورَةِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ وَهَلْ تُسَنُّ قِرَاءَتُهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ أَمْ لَا باب: پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں¤اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1601
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا (يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ) إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شکایت کی،انھوں نے کہا:یہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھاتا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح کی نماز پڑھاتا ہوں، پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتا ہو اور دوسری دو میں مختصر کرتا ہوں۔سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: أبو اسحاق! تیرے بارے میرایہی خیال تھا۔