حدیث نمبر: 1598
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ) وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَا فِي الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے اور ظہر و عصر میں پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتوں کی تلاوت کرتے اور بسا اوقات ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے تھے، ایک روایت میں ہے: دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور ظہر کی پہلی رکعت میں (قراءت کو) لمبا کرتے اور دوسری میں مختصر کرتے اور نماز فجر میں بھی ایسے ہی کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض و نفل کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی دوسری دو رکعت میں صرف فاتحہ شریف کی تلاوت پر بھی اکتفا کر لیتے تھے اور بحیثیت ِ رکعت پہلی اور آخری رکعات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1598
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 451 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19638»