الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ باب: آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1595
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقَالَ آمِينَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن بیہقی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: یَرْفَعُ بِھَا صَوْتَہٗ۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)