الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ باب: آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1592
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ عُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔