حدیث نمبر: 1591
عَنِ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے او ر ان کی آوازیں قراءت کے ساتھ بلند ہورہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نمازی اپنے رب تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اس ذات سے جو سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس میں غور کرے اور کوئی بھی کسی پر بآواز بلند قرآن کی تلاوت نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ جب ایک نمازی کسی دوسرے نمازی کی قراء ت کی آواز سنے گا تو وہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھ سکے گا اور اس کی توجہ بٹ جائے گی، اس لیے جب لوگ ایک مقام پر نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ مکمل خاموشی اختیار کریں، ہاں جب کوئی خلوت میں ہو تو وہ نماز میں بلند آواز سے قراء ت کر سکتا ہے۔ جو لوگ نمازی کے قریب گپیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ان کو اپنے کیے پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ نمازی کے قریب تو قرآن مجید کی تلاوت بھی ناجائز ہے۔ نمازی لوگوں کو ان احادیث سے یہ اندازہ بھی کر لیناچاہیے کہ نماز میں کتنی توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اکثر نمازیوں کی صورتحال ہے کہ نماز کے رٹے رٹائے کلمات ہوتے ہیں اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان کلمات کو رٹا لگا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ سرے سے قریب سے آنے والی آوازوں سے متاثر ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نمازیں ہمارے ضمیر میں اللہ تعالیٰ کا وہ مقام پیدا نہ کر سکیں، جو ہونا چاہیے تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1591
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 80، والنسائي في الكبري : 3364، والبيھقي: 3/11، عبد الرزاق: 4217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19231»