الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا هُوَ سَنَّ عَلَى مُصَلٍّ آخَرَ باب: نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
حدیث نمبر: 1588
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ وَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ مَا يُنَاجِي رَبَّهُ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو ایک خطبہ دیا، جس میں یہ بھی فرمایا: خبر دار!یقینا جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اس سرگوشی (کے کلمات) کو سمجھے جو وہ اپنے رب سے کر رہا ہوتا ہے، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) کوئی بھی نماز میں قراءت کی آواز کو دوسروں پر بلند نہ کرے۔