الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ وَإِنْصَاتِهِ إِذَا سَمِعَ إِمَامَهُ باب: مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1585
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: ((قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی ،ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی۔ سورت کی تلاوت کی ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: تم میں سے کس نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَ عْلٰی۔ پڑھی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے( پڑھی ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے پہچان لیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھ پر اس (کی قراءت) کو الجھا دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام سرّی نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں فاتحہ شریف کے علاوہ بھی تلاوت کرتے تھے، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو بلند کرنے سے منع کر دیا ہے۔ مقتدی لوگوں کو چاہیے کہ وہ پست آواز میں تلاوت جاری رکھا کریں۔