الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ وَإِنْصَاتِهِ إِذَا سَمِعَ إِمَامَهُ باب: مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1584
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَٰذِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کثیر بن مرۃ حضرمی کہتے ہیں: سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایک انصاری آدمی کہنے لگا: اب یہ (قراءت تو)واجب ہوگئی ہے۔ لیکن سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے، جبکہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور کہا:میرے بھتیجے! میرا خیال تو یہ ہے کہ جب امام لوگوں کی امامت کرواتا ہے تو (قراءت میں بھی) وہی ان کو کفایت کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی رائے یہی تھی، حالانکہ ان کی اپنی روایت کردہ حدیث بھی عام ہے کہ ہر نماز میں قراء ت ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث گزر چکی ہیں، جن سے سورۃ الفاتحہ خلف الامام کا ثبوت ملتا ہے اور کئی صحابہ کا بھییہی فتوی ہے۔