الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ باب: مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 158
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: ((أَوَجَدْتُّمْ ذَلِكَ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((ذَكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۲۳)کے فوائد میں ان احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔