الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ وَإِنْصَاتِهِ إِذَا سَمِعَ إِمَامَهُ باب: مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَقَالَ: ((هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مَعِي آنِفًا؟)) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازِعُ الْقُرْآنَ)) فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يُجْهَرُ بِهِ مِنَ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تبھی تومیں کہتا تھاکہ مجھے کیا ہو گیاہے، مجھ سے قرآن کھینچا جا رہا ہے (یعنی قرآن مجھ سے جھگڑا کر رہا ہے اور اختلاط کی وجہ سے پڑھا نہیں جا رہا)۔ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی تو وہ ان نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلاوت کرنے سے باز آ گئے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔
مثلا: … ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کو میرے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے، لیکن دوسری حدیث میں تخصیص کر دی اور مقبرہ اور حمام میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں طلوعِ آفتاب، زوال اور غروب آفتاب جیسے مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی، لیکن دوسری حدیث میں مسجد حرام میں ان اوقات میں بھی نماز پڑھنے کی تخصیص کر دی۔ مختلف احادیث میں نیند کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی تخصیص کر دی گئی کہ نیند کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس قسم کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں، کہ ایک مقام پر عام حکم دے دیا جاتا ہے، لیکن دوسرے مقام پر اس کی تخصیص کر دی جاتی ہے، یہی معاملہ مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کے پڑھنے کا ہے، کہ اگر ایک حدیث میں مقتدی کو خاموش رہنے کا عام حکم دیا جا رہا ہے تو کئی احادیث میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی تخصیص بھی کی جا رہی ہے۔ یہ شارع علیہ السلام کا حق ہے، ہماری عقل کا مسئلہ نہیں ہے۔