حدیث نمبر: 1579
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَقَالَ: ((هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مَعِي آنِفًا؟)) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازِعُ الْقُرْآنَ)) فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يُجْهَرُ بِهِ مِنَ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تبھی تومیں کہتا تھاکہ مجھے کیا ہو گیاہے، مجھ سے قرآن کھینچا جا رہا ہے (یعنی قرآن مجھ سے جھگڑا کر رہا ہے اور اختلاط کی وجہ سے پڑھا نہیں جا رہا)۔ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی تو وہ ان نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلاوت کرنے سے باز آ گئے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ آخری جملہ، جس میں لوگوں کے باز آنے کی بات کی جا رہی ہے، یہ امام زہری کا قول ہے، جو مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں مقتدی لوگوں کو امام کے پیچھے جہری قراء ت کرنے سے روکا جا رہا ہے، اگر اس سے یہ استدلال کیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتدیوں کو مطلق طور پر قراء ت کرنے سے روک رہے ہیں تو حدیث نمبر (۵۲۳) کی روشنی میں اس حدیث کے مفہوم کو سمجھ لیا جانا چاہیے، اس میں بھییہی وجہ بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلاوت کرنا مشکل ہو گیا تھا، لیکن اس میں ساری تفصیل بیان کر دی گئی ہے، اُس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: سیّدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ پر قراء ت بوجھل ہونے لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا: میرا خیال ہے کہ تم بھی اپنے امام کے پیچھے قراء ت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلا شک و شبہ ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو (یعنی میرے پیچھے نہ پڑھا کرو) سوائے سورۂ فاتحہ کے، کیونکہ جس نے اس کی تلاوت نہ کی، اس کی کوئی نماز نہیں۔ یہی مفہوم ابھی آنے والی حدیث نمبر (۵۳۲) میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کرام! ہم نے فاتحہ شریف کے بارے میں جمع و تطبیق کی جو صورت پیش کی ہے کہ عام احادیث کو خاص احادیث کی روشنی میں سمجھا ہے، تویہ کوئی ہمارے ذہن کی اختراع یا بعید از قیاس بات نہیں ہے، بلکہ قرآن و حدیث کی کئی نصوص میں مطلق و مقید اور عام وخاص کا قانون بالاتفاق لاگو ہوتا ہے۔
مثلا: … ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کو میرے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے، لیکن دوسری حدیث میں تخصیص کر دی اور مقبرہ اور حمام میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں طلوعِ آفتاب، زوال اور غروب آفتاب جیسے مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی، لیکن دوسری حدیث میں مسجد حرام میں ان اوقات میں بھی نماز پڑھنے کی تخصیص کر دی۔ مختلف احادیث میں نیند کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی تخصیص کر دی گئی کہ نیند کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس قسم کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں، کہ ایک مقام پر عام حکم دے دیا جاتا ہے، لیکن دوسرے مقام پر اس کی تخصیص کر دی جاتی ہے، یہی معاملہ مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کے پڑھنے کا ہے، کہ اگر ایک حدیث میں مقتدی کو خاموش رہنے کا عام حکم دیا جا رہا ہے تو کئی احادیث میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی تخصیص بھی کی جا رہی ہے۔ یہ شارع علیہ السلام کا حق ہے، ہماری عقل کا مسئلہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 827، وابن ماجه: 848، وأما قوله في آخر الحديث فانتھي الناس ۔ فالاشھر انه من قول الزھري۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7270، 7819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7806»