حدیث نمبر: 1572
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَؤُنَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَفْعَلُ هَٰذَا، قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ پر قراءت بوجھل ہو گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا: میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلا شک و شبہ ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو (یعنی میرے پیچھے نہ پڑھا کرو) سوائے سورۂ فاتحہ کے، کیونکہ جس نے اس کی تلاوت نہ کی، اس کی کوئی نماز نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … سورۂ مزمل کی اس آیت {فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} کے بارے میں قاسم بن قطلوبغا حنفی اور ملاجیون حنفی لکھتے ہیں: یوجب بعمومہ القراء ۃ علی المقتدی۔ یعنی: یہ آیت ِ کریمہ اپنے عموم کے ساتھ مقتدی پر قراء ت واجب کرتی ہے۔ (خلاصۃ الأذکار از قاسم حنفی: ۱۹۷، نور الانوار: ۱۹۳) مختلف عام دلائل کی روشنی میں مقتدی کو فاتحہ شریف پڑھنے سے روکنے والوں کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز فجر کے بعد یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ امام کے پیچھے واقعی قراء ت نہ کیا کرو، سوائے سورۂ فاتحہ کے۔ یہ حدیث تمام خاص اور عام دلائل کے لیے اور ان میں جمع و تطبیق دینے کے لیے فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کئی مسائل میں بالاتفاق قرآن مجید کی آیات کو احادیث کی روشنی میں خاص کیا گیا، کیا اس بات پر غور نہیںکیا جاتا کہ قرآن نے خواتین و حضرات کو دن میں پانچ نمازیں پڑھنے اور رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، لیکن احادیث مبارکہ نے حیض والی عورت کو حیض کی مقدار کے مطابق اور نفاس والی عورت کو زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں تک نماز اور روزے سے مستثنی قرار دیا ہے، اورپھر نماز کی قضا کا بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، اس قانون کی دیگر کئی مثالیں موجود ہیں۔
کیا اس مقام پر ان احادیث کی روشنی میں درج ذیل آیت ِ مبارکہ کی تخصیص نہیں کی جا سکتی؟ {وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗوَاَنْصِتُوْالَعَلَّکُمْتُرْحَمُوْنَ} یعنی: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا کرو اور چپ رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اگر مقتدی امام کے سکتوں میں فاتحہ شریف کی آیات پڑھ لے تو پھر تو سرے سے تخصیص کی ضرورت بھی نہیں پڑھتی۔ بہرحال ہمارے خیال پر بھی توجہ دھری جائے کہ جس ہستی پر یہ آیت نازل ہوئی تھی، اسی نے نماز فجر کے بعد یہ اعلان کیا کہ امام کے پیچھے فاتحہ شریف کی تلاوت کرنا ہو گی۔ اب ہم اس آیت سے استدلال کر کے مقتدی کو مطلق طور پر قراء ت سے کیوں روکیں۔ کیااحناف اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جب وہ جہری نمازوں میں اس وقت مسجد میں پہنچتے ہیں، جب امام قراء ت کر رہا ہوتا ہے، تووہ نیت کے الفاظ بھی کہتے ہیں، پھر اللہ اکبر بھی کہتے ہیں، پھر بعض کو سبحانک اللھم … پڑھتے ہوئے بھی سنا جاتا ہے۔ تو کیا اس وقت وہ اس آیت کی مخالفت نہیں کرتے، حالانکہ نیت کے الفاظ کہنا تو بدعت بھی ہیں؟ اگر وہ یہ جواب دیں کہ تکبیر کہنا اور سبحانک اللھم … پڑھنا تو حدیث سے ثابت ہے، تو ہم کہیں گے کہ کئی احادیث سے مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کی تلاوت بھی ثابت ہوتی ہے، اس لیے اس کی بھی تخصیص ہونی چاہیے۔
تنبیہ: … اگر مقتدی اس وقت پہنچے جب امام جہراً قراء ت کر رہا ہو تو اسے سبحانک اللھم … یا دوسری کوئی دعائے استفتاح نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ تلاوتِ قرآن کے وقت صرف فاتحہ شریف پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تکبیر تحریمہ کہنا فرض ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1572
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، قد صرح محمد بن اسحاق بسماعه من مكحول في: 22745 من مسند احمد، أخرجه ابوداود: 823، والترمذي: 311، وابن خزيمة: 1581، وابن حبان: 1792، والدار قطني: 1/ 319، والبيھقي في القراء ة خلف الامام : 109، 111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22671، 22694)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23070»