الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَسْمَلَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ باب: سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1566
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً، {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ الگ اور ایک ایک آیت کر کے تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ}۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے ہے یا خارج از نماز سے؟ اول الذکر صورت زیادہ مناسب اور راجح معلوم ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسے ہوتی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت میں حروف کو لمبا کر کے پڑھا جاتا تھا۔ پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} میں {بِسْمِ اللّٰہِ}، { الرَّحْمَنِ} اور {الرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ (صحیح بخاری: ۵۰۴۶)