حدیث نمبر: 1564
عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا بُنَيَّ! إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا لَا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا تَقُلْهَا، إِذَا أَنْتَ قَرَأْتَ فَقُلْ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَبْعَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ مِنْهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیٹا (یزید) کہتا ہے: مجھے میرے باپ نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتے ہوئے سنا، جب وہ فارغ ہوئے تومجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے ! اسلام میں نیا کام (ایجاد کرنے) سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ تو قراءت کا آغاز {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں کرتے تھے۔ تو بھی اس کو نہ پڑھا کر اور قراء ت کو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کیا کر۔ ان کا بیٹا کہتا ہے: میں نے اپنے باپ کی بہ نسبت ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جسے بدعت انتہائی ناپسند ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 244، وابن ماجه: 815 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16787، 20559)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20833»