حدیث نمبر: 1563
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَكُونُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسْمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں شروع کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا تو نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں ! ہم نے اُن سے اِس کے متعلق سوال کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی اِن اور دیگر روایات کالب لباب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتحہ شریف کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت جہر کے ساتھ نہیں کرتے تھے، نفی سے مراد اسی جہر کی نفی ہے، کیونکہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: کانوا یسرون یعنی: وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت سرّی آواز میں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابو عبد الله السلمي مجھول فيما نحسب، لكنه قد توبع، أخرجه مسلم: 399، لكن لم يسق لفظه وانظر الاحاديث المذكورة في ھذا الباب۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14002»