حدیث نمبر: 156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکے دل میں جتنی گنجائش تھی، وہ ایمان کی وجہ سے پُر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دوسری چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ ایمان کے باوجود قرآن مجید اور علم کو محفوظ کرنے کی قوت عطا کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 156
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، وقد تفرد به ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6604»