حدیث نمبر: 1559
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} أَوِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو مسلمہ سعید بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھتے تھے یا {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}؟ انہوں نے جواب دیا: تو مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کررہا ہے جو مجھے یاد نہیں یا تجھ سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے سوال نہیں کیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کا شک کرنا، یہ دراصل ان سے نیچے کسی راوی کو شک ہوا ہے، کیونکہ ان کو یہ مسئلہ یاد تھا، جیسا کہ اسی حدیث کے بعض طرق کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان قراء ت کا آغاز {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۱، بخاری: ۱۲۸، مسلم: ۳۹۹) اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کو ہی آخری عمر مین یہ مسئلہ بھول گیا ہو، کیونکہ انھوں نے لمبی عمر پائی تھی، بہرحال ایسی صورت میں مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ مثبت زیادتی ٔ علم پر مشتمل ہے اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان کی اقتدا میں نماز پڑھی اور کسی کو بھی {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۰،مسلم: ۳۹۹) اس باب میں ان ہی روایات کا ذکر چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، رواه احمد في عدة اماكن بالفاظ مختلفة ومتقاربة، وبعضه رواه الشيخان مثل الرواية الآتية في شرح ھذا الحديث، أخرجه الدارقطني: 1/ 316 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12700)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12730»