الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابٌ فِي دُعَاءِ الِافْتِتَاحِ وَالتَّعَوُّذِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ باب: دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ الْقَائِلُ؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهَّهَا دُونَ الْعَرْشِ))سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔) ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔