حدیث نمبر: 1554
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ فِي الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے یہ کلمات کہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ الفاظ کہنے والا کون تھا؟ ایک آدمی نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہواکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 601 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4627)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4627»