حدیث نمبر: 1553
عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَمْزُهُ وَنَفْثُهُ وَنَفْخُهُ؟ قَالَ: أَمَّا هَمْزُهُ فَالْمَوْتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ فَذَكَرَ كَهَيْئَةِ الْمَوْتَةِ يَعْنِي يُصْرَعُ) وَأَمَّا نَفْخُهُ الْكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جبیر بن مطعم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفل نماز میں تین مرتبہ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ،تین مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا اور تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً پڑھا اور پھر یہ کہا: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْثِہٖ ونَفْخِہٖ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے ، اور اس کے نفخ سے مراد تکبر اور نفث سے مراد شعر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ دعائے استفتاح ثابت ہوئی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً۔ ان تین جملوں کا ترجمہ یہ ہے: اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پہلے جملے میں لفظ کَبِیرا کی تین تراکیب ہو سکتی ہیں: (۱) یہ اُکَبِّرُ کا مفعول ہے، یا (۲) تَکْبِیْرًا محذوف کی صفت ہے، یا (۳) یہ حال ہے جو پورے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔
اس حدیث میں صرف صبح و شام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد تسلسل ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے {وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّاo} (مریم: ۶۲) اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح اور شام ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو جنت میں ہر وقت رزق ملے گا۔ (عبداللہ رفیق) یا چونکہ صبح و شام کو رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لیے صرف ان اوقات کا ذکر کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير، أخرجه ابوداود: 765 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16739)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16860»