حدیث نمبر: 1550
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: ((أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، قَالَ جَرِيرٌ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبرکہتے تو آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے بارے میں تو مجھے بتلا دیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: دعا کا ترجمہ:اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جیسے تونے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔

وضاحت:
فوائد: … حقیقت میں گناہوںکو پانی، برف اور اولوں سے نہیں دھویا جاتا ہے، اس سے مراد تاکید اور مبالغہ ہے، یعنی ہر گناہ کو بخش دیا جائے اور کسی کو باقی نہ رہنے دیا جائے، جیسے اس کپڑے کی حالت ہوتی ہے، جس کو ان تین چیزوں سے صاف کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 744، ومسلم: 598 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7164)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7164»